چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی 81 ویں یوم پیدائش پر، گوگل کے ڈوڈل بھی تبدیل

وحید مراد

کراچی : آج پاکستان کے نامور فلمی ہیرو وحید مراد کی 81 ویں سالگرہ ہے، اس عظیم فنکار کی خدمات کے پیش نظر گوگل نے اپنا ڈوڈل ان کے نام کردیا۔

پاکستان فلم انڈسری پر 60 اور70 کی دہائی میں راج کرنے والے ناموراداکار وحید مراد دو اکتوبر 1938 ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اپنی تعلیمی مدارج بھی کراچی میں مکمل کئے اور جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

1960ء میں انہوں نے اپنا ذاتی فلمساز ادارہ ’’فلم آرٹس‘‘ کے نام سے قائم کیا اور اس ادارے کے تحت دو فلمیں ’’انسان بدلتا ہے‘‘ اور ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘ بنائیں۔ ان فلموں کی تکمیل کے دوران انہیں خود بھی اداکاری کا شوق ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : کوکوکورینا ریمیک:عادل مراد نے چاکلیٹی ہیرو کے مداحوں سے معافی مانگ لی

وہ درپن کی بہ حیثیت فلمساز ایک فلم ساتھی میں موٹر مکینک کا چھوٹا سا کردار بھی ادا کرچکے تھے اور بالاخر 1962 ء میں انہیں ہدایت کار ایس ایم یوسف نے اپنی فلم ’’اولاد‘‘ میں بہ حیثیت اداکار متعارف کروایا۔

یہ فلم بے حد کامیاب رہی اس کے بعد انہوں نے فلم ’’دامن‘‘ میں کام کیا اور اپنی دلکش شخصیت کے باعث اس فلم میں بھی بے حد پسند کئے گئے۔

یہ ان کی ہیرو شپ کا نقطۂ آغاز تھا، پھر انہوں نے اپنے ادارے فلم آرٹس کے تحت فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ شروع کی جس میں انہوں نے زیبا کے ہمراہ مرکزی کردار ادا کیا۔

اس فلم کے فلمساز پرویز ملک، موسیقار سہیل رعنا اور نغمہ نگار مسرور انور تھے۔ اس فلم کی کامیابی نے وحید مراد کو خواتین کے ایک بڑے حلقے میں چاکلیٹی ہیرو اور لیڈی کلر کے خطابات دلوائے۔

ہیرا اور پتھر کی کامیابی کے بعد ان چاروں دوستوں نے کئی اورفلمیں بنائیں جن میں فلم ’’ارمان‘‘ نے پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

اس فلم میں احمد رشدی کے نغمات بھی بے حد مقبول ہوئے اس کے بعد وحید مراد کی اداکاری اور احمد رشدی کی آواز گویا لازم و ملزوم بن گئی۔ وحید مراد کی دیگر کامیاب فلموں میں جوش، جاگ اٹھا انسان، احسان، دو راہا، انسانیت، دل میرا دھڑکن تیری، انجمن، مستانہ ماہی اور عندلیب کے نام سرفہرست ہیں۔

وحید مراد نے لاتعداد فلموں میں ایوارڈز حاصل کئےاوروہ بلاشبہ پاکستان کی فلمی صنعت کے ایک صاحب اسلوب اداکار کہے جاسکتے ہیں۔ وحید مراد 23 نومبر 1983ء کو کراچی میں انتقال کرگئے وہ لاہور میں گلبرگ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں.