جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

ہم اپنی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے تمام تر اقدامات کررہے ہیں : مرتضیٰ وہاب

ہم اپنی آبادی کو تحفظ

کراچی: مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز نہیں دی صرف بین الصوبائی حرکات سفر پر پابندی کی گزارش کی تھی، ہم اپنی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے تمام تر اقدامات کررہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ قانون مرتضیٰ وہاب کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں احتیاط کا دامن تھامنا ہے ماسک پہننا پڑے گا، پہلی لہر کی طرح تیسری لہر کا بھی مقابلہ کریں گے، ٹیسٹنگ صلاحیت کو بھی مزید آگے بڑھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صرف انٹر پراونشل ٹرانسپورٹ پر پابندی کی بات نہیں کی، سندھ حکومت پہلے دن سے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے پر عمل کرتے رہے ہیں،

سائینو فارم چینی سرکار کی ویکسین ہے۔ نجی کمپنیوں سے منگوانے کی وفاق سے اجازت مانگی، ڈریپ نے کل ریٹ طہہ کیا ہے، ہم اپنی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے تمام تر اقدامات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی ٹھٹہ میں ریسکیو سروس شروع کی ہے، کابینہ اجلاس میں نئی ایمبولینس کی خریداری کا معاملہ سامنے آیا تھا، جلد نئی گاڑیاں خریدی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے: مرتضیٰ وہاب

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی بھی 0.4 فیصد لوگ ویکسین لگواسکے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سب شہری ویکسینیٹ ہوں۔ عدالتی فیصلوں کے بعد اگرعدالتیں کسی کو بری کرچکی ہوں تو ان کیسز کو دوبارہ کھولنا غلط ہوگا۔ پیپلزپارٹی قیادت کیسز کا سامنہ کرتی رہی ہے اب بھی کریگی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہرکے اثرات پورے ملک میں دیکھے جارہے ہیں، ہمارے ہاں اور بلوچستان میں کچھ حالات بہتر ہے۔ این سی اوسی کے اجلاس میں وزیراعلی سندھ نے وزیراعظم کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ کچھ سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔

سندھ حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز نہیں دی صرف بین الصوبائی حرکات سفر پر پابندی کی گزارش کی تھی، لوگوں کی نقل وحرکت نہیں ہونی چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی جب نیب پیش ہوئے ایک چھوٹا سا کمرا تھا، بیس سے بائیس لوگ کراچی سے اسلام آباد گئے پھر واپس بھی آئے اسی طریقے سے وائرس بڑھتا ہے۔ وزیراعلی نے وزیراعظم کو ویکسینیشن کے عمل کو مزید تیز کرنے کی تجویز دی، عمر کی شرط ختم کرنے کی بات کی، کئی دل کینسر اور دیگر امراض میں مبتلا مریض ہیں ان کو ویکسین ملنی چاہیئے۔

متعلقہ خبریں