جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

قانون کی بالادستی قائم کیے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے: وزیراعظم

قانون کی بالادستی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قانون کی بالادستی قائم کیے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے، قانون کی بالادستی کے بغیر خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا، ہمیں عظیم قوم بننا ہے تو اسلامی اصولوں پر چلنا ہوگا۔

کنونشن سینٹر میں وزیراعظم عمران خان کا قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو نبی ﷺ کی سیرت کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے، 12 ربیع الاول پر شہروں کو سجانے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، محمد ﷺ کے یوم ولادت پر نوجوانوں کی آگاہی کیلئے ویڈیو تیار کی ہے، ویڈیو سے آگاہی ملے گی محمد ﷺ دنیا میں کتنا بڑا انقلاب لیکر آئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے ہمیں توفیق ملی 12 ربیع الاول بھرپور طریقے سے منائیں، نبی ﷺ کی سنت پر چلنے کا حکم ہماری بھلائی کیلئے ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے ہمیں رہنمائی لینے کی ضرورت ہے، جب تک ہم اُن اصولوں پر نہیں چلیں گے ہمیں کامیابی نہیں ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 25 سال پہلے ہمارا ویژن تھا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے، مدینہ کی ریاست ہمارے لیے رول ماڈل ہے، اللہ نے سب کچھ دیا، ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں، رحمت اللعالمین اتھارٹی میں دنیا کے بڑے اسکالرز کو شامل کروں گا، آپ ﷺ نے قانون کی بالادستی اور انصاف پر بہت زور دیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں مسلمانوں کا کردار بہت بلند تھا، انصاف ہمیشہ کمزور کو چاہیے ہوتا ہے، طاقتور تو خود کو قانون سے اوپر سمجھتا ہے، ہماری جدو جہد ملک میں قانون کی بالادستی ہے، بزدل انسان کبھی لیڈر نہیں بن سکتا، حضور اکرم ﷺ نےخواتین، بیواؤں اور غلاموں کو حقوق دیئے، نبی اکرم ﷺ نے غلاموں اور خواتین کو جو حقوق دیئے کوئی نہیں دے سکتا، صرف اسلام نے یہ حق دیا کہ کئی غلام حکمران بن گئے، صادق اور امین ہونا لیڈر کیلئے بہت ضروری ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں کیا بتاؤں، کس طرح کے جھوٹ بولے گئے، کیس برطانوی عدالت میں ہوتا تو ان کو اسی وقت جیل میں ڈال دیا جاتا، برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا،

یہاں سب کو پتا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتا ہے، برطانیہ کا پارلیمنٹری سسٹم اخلاقی معیار پر قائم ہے، برطانیہ میں کسی پر پیسہ چوری کا الزام لگ جائے تو وہ میڈیا پر بھی نہیں آسکتا، اخلاقیات کا معیار نہیں تو جمہوریت نہیں چل سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: ربیع الاوّل خوشیوں اور برکتوں والا ہے، نبیﷺ نے لوگوں کو متحد کیا : وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی قائم کیے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے، برطانوی عدالتوں میں انصاف ہوتا ہے وہاں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی، قانون کی بالادستی کے بغیر خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا، ہمیں عظیم قوم بننا ہے تو اسلامی اصولوں پر چلنا ہوگا، انصاف کا نظام نہیں ہوگا تو خوشحالی نہیں آئے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طاقتور اور کمزور کیلئے الگ الگ قانون سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں، ملکی ترقی کیلئے نظام درست کرنے کی ضرورت ہے، قانون کی حکمرانی کیلئے آواز بلند کرتا رہوں گا، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہوگا، فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں، احساس پروگرام کے تحت سوا کروڑ خاندانوں کو سبسڈی دیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں جنسی جرائم کا بڑھنا بہت خطرناک ہے، نوجوانوں کو سود کے بغیر قرضے دیں گے، اپنے نوجوانوں کو بے راہ روی سے بچانا ہے، ہالی ووڈ کلچر ہمارے نوجوانوں کو تباہ کرے گا،

ملک کا نظام تب درست ہوگا جب قانون کی حکمرانی ہوگی، دنیا میں امیر اور غریب کا فرق بڑھتا جارہا ہے، سالانہ ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر آف شور کمپنیوں میں چلا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 سال پہلے پاکستان خطے میں تیزی سے ترقی کررہا تھا، ہمیں اپنی سمت درست کرنی ہے، برطانوی عدالتوں میں انصاف ہوتا ہے وہاں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی، پاکستان کا نظام اوور سیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری سے روکتا ہے، جس راستے پر ہم آج چل پڑے، 70 سال پہلے جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ خاندانی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، ٹی وی چینلز کے پروگراموں کو مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے، بچوں سے موبائل نہیں چھین سکتے کم از کم تربیت تو کرسکتے ہیں، مغرب کو نہیں پتا ہم اپنے نبی ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں