جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

ہم نے سیاسی ساکھ کو نہیں پاکستان کو اولیت دی، امیر لوگوں پر ٹیکس لگائے : مِفتاح اسماعیل

امیر لوگوں پر

اسلام آباد : وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچے گا، مگر ہم نے پاکستان کو اولیت دی۔ بیس بیس ہزار ارب کا قرض چڑھا کر جاتے ہیں اور پھر کس طرح عمران خان خود مختاری کی بات کرتے ہیں؟ ہم نے امیر لوگوں اور صنعتوں پر ٹیکس لگائے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس میں وزیر خزانہ مِفتاح اسماعیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی جانب سے بہت سے مفید مشورے اور تجاویز دی گئی ہیں۔ تمام ممبران کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس کو مزید بہتر بنانے کے لیے تعاون کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے نوجوانوں اور زراعت کی جانب توجہ دلائی۔ بنولہ کھل پر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، ہم ایک مرتبہ پھر گندم میں ملک کو خود کفیل کرینگے۔ کسانوں کو سبسڈی نہیں بلکہ انویسٹمنٹ کے طور پر ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال سب سے برا ترین سال تھا، جب تمام اہداف سے پیچھے ہٹے۔ مجھے وزارت سنبھالتے ہی واشنگٹن، دوحا اور دیگر ملکوں جانا پڑا۔ بیس بیس ہزار ارب کا قرض چڑھا کر جاتے ہیں اور پھر کس طرح عمران خان خود مختاری کی بات کرتے ہیں؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان ملک کو ڈیفالٹ کی نہج پر لائے جسے ہم نے آکر بچایا ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک کو خود داری کی جانب نہیں غلامی کی طرف دھکیلا ہے۔ 23 کروڑ غیور عوام کا طاقت ور ملک، اب ڈیفالٹ کی جانب نہیں ترقی کی جانب جائے گا۔

مِفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کی مد میں مشکل فیصلے لئے اس پر تمام سیاسی قائدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تمام سیاسی قائدین سمجھتے تھے کہ سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچے گا، مگر ہم نے پاکستان کو اولیت دی۔

انہوں نے کہا کہ 10.3 ارب ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر ملے، اس وجہ سے آئی ایم ایف کا پروگرام شروع کرنا ضروری تھا۔ وزیراعظم نے جو ٹیکس لگائے ہیں۔ وہ بلواسطہ ٹیکس نہیں لگائے، ہم نے امیر لوگوں اور صنعتوں پر ٹیکس لگائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا کریڈٹ دینا چاہیئے کہ وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر زیادہ ٹیکس لگائے۔ میری کمپنیاں بھی زیادہ ٹیکس دیں گی، 20 کروڑ سے زیادہ ٹیکس میری کمپنیاں دیں گی۔ ہم نے چھوٹی دکانوں سے بجلی بلز کی مد میں فکس ٹیکس دینگے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سونے کے کاروبار میں 30 ہزار سے زائد ہیں، مگر صرف 22 دکانیں رجسٹرڈ ہیں۔ تین سو اسکوئر فٹ سے کم دکانوں پر بھی فکس ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔ گھر بنا کر بیچنے والوں پر اور کار ڈیلرز سے بھی ان کی آراء پر ٹیکس لگا رہے ہیں۔ ان ٹیکسز سے مہنگائی نہیں بڑھے گی، مگر پاکستان کا ریونیو بڑھے گا۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم نے امیروں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا

مِفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 80 لاکھ افراد کو 2 ہزار ماہانہ جون سے دیئے جارہے ہیں، 40 لاکھ اب تک رجوع کرچکے، جن میں 10 لاکھ رجسٹرڈ ہوگئے۔ بجٹ خسارے کے ہمیں طعنے دینے والے عمران خان نے سب سے زیادہ قرض لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو بچایا ہے، وہیں ہمیں امیر لوگوں سے ٹیکس لگا کر دینا پڑے گا۔ ہم پرائمری ڈیفیسٹ کو کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو مثبت اشاریے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کمپنی یا شخص جس کی سالانہ 15 کروڑ کی آمدن ہوگی، ایک فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔ 20 کروڑ پر 2 فیصد، 25 کروڑ 3 فیصد اور 30 کروڑ پر 4 فیصد، شوگر ملز، ایل این جی ٹرمینلز، ائر لائنز سمیت 13 سیکٹرز پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاور کے سیکٹر میں 1100 ارب کی سبسڈی اور دیگر مد میں 500 ارب کی سبسڈی دی گئی۔ اس وجہ سے پاکستان کو نقصان ہوا، اب سب کو اس کا حصہ ڈالنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ڈیڑھ سے دو لاکھ کا ٹیکس 20 سال سے دے رہے تھے۔ اب گزشتہ سال سے 98 لاکھ کا ٹیکس عمران خان دے رہے ہیں، شائد توشہ خانہ گھڑیاں بیچ کر آمدن بڑھی ہے۔ عمران خان پر البتہ سپر ٹیکس نہیں لگے گا، کیونکہ ان کی آمدن 15 کروڑ سے کم ہے۔

مِفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی جن کے پاس نائکوپ ہے انہیں پراپرٹی لینے پر ٹیکس پیئر کے طور پر ڈیل کیا جائیگا۔ سرجیکل اور سیالکوٹ لیدر گارمنٹس پر سے سیل ٹیکس ہٹادیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل سمیت سلیم مانڈوی والا کی سفارشات کو بھی فنانس بل میں شامل کر رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کبھی اتنی خستہ حال نہیں تھی جتنی آج ہے۔ آج کا حال یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ بہت زیادہ ہے۔ سبسڈی کی مد میں 500 ارب کی بجائے 1500 ارب کی سبسڈی دیدی گئی۔ سابق حکومت نے ایل این جی نہ لی بلکہ اپنی کرپشن اور نااہلی کی بھینٹ ملک کو چڑھادیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مانتا ہوں پیٹرول ڈیزل مہنگا کیا، جو مجبوری تھی مگر عوام عمران خان کے ورغلانے کے باوجود باہر نہیں نکلے۔ میں اس صورت حال میں عوام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی اسمبلی گزشتہ بجٹ میں اسٹاف کو دو اعزازیہ دیتی رہی ہے۔ کوریج کرنے والے اے پی پی، ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی، سی ڈی اے سمیت پارلیمنٹ کو بھی دو اعزازیہ دینا چاہیئے۔ جن کو محکموں کے بجٹ سے اعزازیہ نہیں دیا جائیگا، انہیں وزارت خزانہ یہ پیسے دے گی۔

متعلقہ خبریں