جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ہم نے تو گولڈ مائنز دی تھیں، آپ نے سب کریش کردیا تو ہمارا کیا قصور؟ احسن اقبال

ہم نے تو

اسلام آباد : احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ہم نے تو آپ کو گولڈ مائنز دی تھیں مگر آپ نے اس سے ملک تباہ کردیا، آپ نے سب کریش کردیا تو ہمارا کیا قصور؟

مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اچھی حکومتیں اور بری حکومتی آتی رہتی ہیں، مگر جب ایکو سسٹم کے اندر کلامیٹ سسٹم خراب ہو جائے تو خراجی ہوتی ہے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بمشکل 2017ء میں تین ارب ڈالر تک ایف آئی ڈی لے کر گئے، مگر اب پھر ڈیڑھ ارب ڈالر پر آگیا ہے۔ ایسی صورت میں کیسے ہم ایکسپورٹ بڑھائیں گے، ویت نام اور برما بھی ہم سے آگے ہیں۔ ہمیں اس کے حوالے سے اپنے کلامیٹک سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  گزشتہ تین سالوں میں بجٹ پیش ہوتا ہے، ہم نے جو بھی تحفظات کرتے رہے وہ سچ ثابت ہوتے رہے۔

گزشتہ تین سال میں حکومت ٹیکس کا ہدف حاصل نہیں کرسکی۔ ٹیکس تجاویز سے مہنگائی آئے گی، حکومت تردید کرتی رہی مگر ایسا ہی ہوتا رہا۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ ہم نے منی بجٹس کے حوالے سے خبردار کیا حکومت نے تردید کی، مگر ہوا وہی جو اپوزیشن نے کہا۔ ساڑھے آٹھ نو فیصد پر بجٹ خسارہ چلا جائیگا۔ اس بجٹ کی منظوری کے ساتھ ہی گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونگی۔ بلواسطہ ٹیکس لگا کر پھر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا جائے گا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آج نئی نسل سوال کرتی ہے کہ کیا پاکستان جمہوری طور پر مضبوط ہے؟21 ویں صدی میں قوموں کی خوشحالی، خود داری کا انحصار اقتصادی پالیسی پر ہے۔ آپ کپیسٹی پینٹ اس لئے کررہے ہیں پاکستان کی گروتھ کو 6 پوائنٹ پر لانا تھا مگر آپ نے سب کریش کردیا تو ہمارا کیا قصور؟

انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں مہنگے بجلی منصوبے لگائے۔ یہ منصوبے نیپرا منظوری سے لگے۔ نیپرا میں چاروں صوبوں کے نمائندے موجود ہوتے ہیں،

اس کے بغیر منظوری نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہے تو پھر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بھی اس جرم میں شریک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمر ایوب صاحب ہیں! وہ نہیں بدلے حکومتیں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ ڈی این اے کسی کسی کے پاس ہوتا ہے جو ان کے پاس ہے ہر حکومت میں آکر پچھلی حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کون سی اکنامکس پڑھ کر آتے ہیں، کہ بجلی کے گھر بند کردیں۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک کہتے ہیں کہ کوئی کچا گھر نہیں، لوگ خوشحال ہیں ہمارے صوبے میں غربت نہیں۔ اسی حکومت نے ایک سروے جاری کیا ہے، جن کے 32 اضلاع میں 7 ضلعے ترقی سے پیچھے ہیں۔ اسی لئے یہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہار گئے۔

یہ بھی پڑھیں : مذاکرات کی پیش کش، اپوزیشن کی کوئی لیڈرشپ نہیں، بکھرا ہوا گروہ ہے : فواد چوہدری

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چور چور کے نعرے لگاتے ہیں، جنہوں نے 35 روپے آٹا دیا، وہ چور یا 70 روپے کلو دینے والا چور؟ جس نے چینی 55 روپے دی وہ چور یا پھر 110 روپے کلو چینی دینے والا چور؟ یونیورسٹی میں 12 ہزار سالانہ فیس والا چور یا پھر 50 ہزار فیس لینے والا چور ہے؟

انہوں نے کہا کہ تین سال میں حکومت کا کوئی ڈویلپمنٹ پلان نظر نہیں آیا۔ ہم نے ویژن 2025ء متعارف کرایا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پانچ سالہ منصوبے کو ہدف تک پہنچایا۔ 2013ء میں ہر پاکستانی لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کو بڑا مسئلہ قرار دیتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018ء تک لوڈ شیڈنگ ختم کی، دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ 2018ء سے 2023ء تک ترقیاتی بلیو پرنٹ حوالے کرکے گئے۔ یہ حکومت 12 ویں پانچ سالہ منصوبے کو آج تک حتمی شکل نہیں دے سکی۔

وزیراعظم کہتے ہیں کہ ہم پیچھے رہ گئے کہ ہم نے لانگ ٹرم پالیسی نہیں کی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پہلی بار یہ حکومت آئی ہے، جس کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں، جس کا وزیراعظم بین الاقوامی فورم پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے بدنام کرے۔ انہی کے الزامات کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کار اس ملک سے جاچکا ہے۔ جب گھر کا مالک ایسے کہے گا تو پھر کون اس گھر میں رہے گا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کی کردار کشی کے ساتھ اس حکومت نے پاکستان کی کردار کشی کی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس حکومت کے ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت کا اندازہ اس ایوان میں وزراء کے بیانات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے،

مگر دو ماہ پہلے کہتے تھے کہ تین سال میں معیشت کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے۔ نیٹ فوڈ امپورٹر ہوگیا ہے، مگر تین سال پہلے تو ایسا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لینڈ مائنز دیں، ہم نے تو آپ کو گولڈ مائنز دی تھیں مگر آپ نے اس سے ملک تباہ کردیا۔ اس حکومت کے وزیر وکیل ہیں، جو کبھی انرجی، کبھی ٹیکنالوجی پر درس دیتے ہیں۔ حماد اظہر قبضہ پلاٹ پر تو آپ رائے دے سکتے ہیں مگر آپ انرجی پر نہ صلاحیت نہ ہی آپ کے پاس ڈگری ہے بات کرنے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ساہیوال کا پلانٹ سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی پر لگا ہے، جو آلودگی سے پاک ہے۔ سی پیک پر کیچڑ اچھالنا ان کا وطیرہ ہے۔ متنازعہ بنایا اور اس گیم چینجر کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ چین 400 بلین ڈالر لے کر چین چلا گیا، جو پاکستان آسکتے تھے بلکہ آنے تھے۔

متعلقہ خبریں