جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

ہم خواہشات کے اسیر بن گئے ہیں

ہیں

حقیقی طور پر ہماری زندگی بہت آسان ہے اور بہت آسانی سے اسے گزارنے کے سنہرے اصول بھی متعین ہے۔ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی کو خود مشکل بناتے ہیں

۔ زندگی ان چیزوں کے ساتھ گزرتی ہے پہلی ضرورت اور دوسری خواہش۔ ضرورت تو کسی نہ کسی طرح پوری ہوجاتی ہے مگر خواہشات ہمیشہ پوری نہیں ہو پاتی۔ ل

 

یکن ہم میں سے اکثر لوگ ضرورت سے زیادہ خواہشات کی طرف بھاگتے نظر آتے ہیں جس سے زندگی میں بے چینی بڑھ جاتی ہے اور ہم اپنی سادہ زندگی کو خود اجیرن بنا دیتے ہیں۔

 

یہ پڑھیں : اپنی مرضی کی زندگی یا پھر مجبوری

 

اچھی چیز کی خواہش کرنا غلط نہیں مگر چادر سے اگر پیر نکلیں گے تو مسائل بھی پیدا ہونگے۔ اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر اوربے چین کرکے ،

ادھار لےکر، قرض لے کر خواہش پوری ہوتو جاتی ہے مگر پھر چند دن بعد جب اس خواہش سے دل بھرتا ہے تو دماغ پر ایک بوجھ سا طاری ہوجاتا ہے کہ یہ ادھار اب واپس کرنا ہے ۔

 

یہ قرض اب چکانا ہے۔ جیسے کہ اگر ہزار روپے کی گھڑی پہنے ،مگر 10 ہزار کی گھڑی کی خواہش ہو اور اس کے لئے ادھار لیا جائے تو پھر ، وقت تو دونوں میں ایک جیسا ہی ہوگا ۔

 

Desire: Differentiating between Needs vs. Wants – Sherline's Watchu Thinkin' Blog

 

یہ ہی مثال دس لاکھ کی اور 30 لاکھ کی گاڑی کی ہے۔ یہ ہی مثال برینڈڈ کپڑوں کی ہے لیکن جسم تو لوکل برینڈ کے کپڑوں سے بھی ڈھک سکتا ہے۔

اسی طرح 30 ،35ہزار والے اسمارٹ فون سے بھی کام چل سکتا ہے مگر لوگوں پر رعب ڈالنے کے لئے آئی فون پر لاکھوں روپے لگاتے ہیں۔

 

ہم خواہشات کے اسیر بن گئے ہیں ۔ہم مالدار ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر خوش رہنے کے فارمولے تلاش نہیں  کرتے۔ ہم میں ان خواہشات کی وجہ سے منفی فکر پروان چڑھتی ہے۔ ہم چیزوں کو قدر سے دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں اور قیمتوں سے اس کو اہمیت دینے لگے ہیں۔

 

موجودہ دور کا المیہ ہے کہ برینڈڈ چیز رکھنے والوں کوذہین اور سمجھدارسمجھا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس شخص کے پاس دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اس کی شخصیت نہیں بلکہ اس کے برینڈڈ کپڑے، موبائل اور گاڑی ہوتی ہے۔

 

اس بارے میں پڑھیں : اخلاق سے عاری قوم

ہمارا معاشرہ بھی مادیت کی خبط کا برُی طرح شکار ہوگیا ہے۔کھانے سے لے کر کپڑے،موبائل سے لے کر گاڑی ، الغرض ہر چیز برینڈ کی چاہیئے ہوتی ہے اور اس کی خواہش ادھار اور قرض لینے پر مجبور کرتی ہے۔

یہ مجبوری یا خواہش کا نابینا پن ہمیں مشکل میں ڈالتا ہے۔یہ خواہشات ایسادلدل ہے جس کے اندر انسان دھنستا رہتا ہے۔یہ ہی خواہشات ہوتی ہیں جو انسان کی زندگی کو مشکل بناتی ہے ۔

 

need desire LED signage photo – Free Image on Unsplash

 

ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں تو انسان کی زندگی سکون کے ساتھ چلتی رہتی ہے مگر خواہشات جیسے ہی زندگی میں آتی ہے ویسے ہی سکون والی زندگی میں اضطراب سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

 

ایک بار پھر ذہن نشین کرلیجئے کہ خواہش کرناغلط نہیں مگر خواہش کے لئے اپنےپُر سکون زندگی کو بے سکونی میں ڈالنا سراسر بے وقوفی ہے کیونکہ چادر سے پیر باہر نکلیں گے تو مسئلہ تو ہوگا اسی طرح خواہشات کی طرف جھکیں گے تو ضروریات پوری کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ خبریں