جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

بھارت کے افغانستان سے اچھے تعلقات پر ہمیں اعتراض نہیں ہے: وزیر خارجہ

افغانستان سے

اسلام آباد: شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کے افغانستان سے اچھے تعلقات پر ہمیں اعتراض نہیں ہے، بھارت کو اپنی محدود سوچ کو ترک کرنا ہو گا، بھارت اگر پاکستان کو نیچا دکھانے کی سوچ پر کاربند رہا تو وہ خطے کی کوئی خدمت نہیں کریگا۔

افغانستان کی صورت حال پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ بھارتی ميڈيا نے ميرے کابل جانے کا واويلا کيا، بھارتی ميڈيا نے غير ذمہ دارانہ گفتگو کی، غير ذمہ دارانہ گفتگو سے ان کی اپنی ساکھ متاثر ہوتی ہے، بھارتی ميڈيا کو بات کرنے سے پہلے تصدیق کرنا چاہیئے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کل یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ سے گفتگو ہوئی، افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، پاکستان اور خطے کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں قیام امن چاہتے ہیں، بھارت کو اپنی محدود سوچ کو ترک کرنا ہو گا، بھارت اگر پاکستان کو نیچا دکھانے کی سوچ پر کاربند رہا تو وہ خطے کی کوئی خدمت نہیں کریگا۔

یہ بھی پڑھیں: 90 کی دہائی کی غلطیاں دہرانا نہیں چاہتے، فیصلہ افغان عوام کو کرنا ہے : وزیر خارجہ

ان کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا دعويدار رہا ہے، بھارت کے افغانستان سے اچھے تعلقات پر اعتراض نہیں ہے، ہمارا فوکس کسی ايک گروپ پر نہیں ہے، پاکستان کی سوچ افغانستان کی بہتری ہے، افغان عوام کے ليے سازگار ماحول پيدا کرنا چاہتے ہيں، افغانستان ميں خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان عوام کے بارے ميں سوچنے والوں سے بات کررہے ہيں، عالمی برادری کو افغانستان سے تعلقات بحال رکھنے چاہیئے، افغان عوام کو يہ تاثر دينا چاہيے کہ ہم اُنہیں بھولے نہیں، باہر جانے والوں کی مدد کريں گے، افراتفری نہ پھيلائی جائے، دعاگو ہيں کہ افغانستان ترقی کرے، افغانستان کی ترقی کے لیے پڑھے لکھے لوگ درکار ہيں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سب باہر چلے گئے تو افغانستان سے محبت کرنيوالوں کا ملک متاثر ہوگا، جان کا تحفظ،بنيادی حقوق کا احترام ضروری ہے، افغانستان کا بہتر مستقبل ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں