جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

دیکھنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن کا جھکاؤ ایک جانب ہی کیوں ہے : فرخ حبیب

دیکھنا ہوگا کہ

اسلام آباد : فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ ڈسکہ میں آپ ساری رات جاگ کر نوٹس لیتے ہیں، ہمیں بار بار نوٹسز جاری ہوتے ہیں، دیکھنا ہوگا کہ نوٹسز کا جھکاؤ ایک جانب ہی کیوں ہے۔

وزیر مملکت فرخ حبیب نے الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پی ایم ایل این اور پی پی کی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 5 سال سے زیر سماعت ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی بنا رکھی ہے، کمیٹی کے بس اجلاس پر اجلاس ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگی اور پی پی والے پیسوں کے پجاری تھے۔ جہاں سے بھی پیسہ آتا تھا یہ اندر کر لیتے ہیں۔ اکاؤنٹس میں موٹی اور بڑی رقوم کا ریکارڈ اسکروٹنی کمیٹی کو نہیں دیا گیا۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اکاؤنٹس دیکھنے کی اجازت فراہم کی جائے۔ الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کا ریکارڈ دیکھنے کی اجازت دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی پی پی اور ن لیگ کے اکاؤنٹس دیکھنے کی اجازت دینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اپنے اکاؤنٹس دکھانے کو تیار نہیں ہے۔ پی پی پی نے اپنے ملازموں کے اکاؤنٹس میں پیسے منگوائے ہوئے ہیں۔ جیسے ان کو ہمارے اکاؤنٹ دیکھنے اجازت ہے ویسے ہی ہمیں بھی اجازت ہونی چاہئیے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں الیکشن کمیشن اس کیس میں بھی وہی آرڈر کریں گے، جو اکبر ایس بابر کیس میں کیا تھا۔ اسٹیٹ بنک ریکارڈ کے مطابق ایک جماعت کے 7 اور دوسری کے 12 اکاؤنٹس جعلی نکل آئے ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں اربوں روپے ٹرانسفر کیے ہوئے ہیں۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا وفد اپنے کیس کے بجائے چیف الیکشن کمشرُسے ملنے آیا۔ پیپلز پارٹی بھی کہہ رہی ہے ان کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ای وی ایم : پی پی اور اے این پی کے وفد کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ ٹھپہ مافیا شفاف انتخابات کی مخالفت کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کا احترام اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس کی ذمہ داری بھی واضح ہے۔ تین تین باریاں لینے والوں نے شفاف الیکشن کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی ویڈیو پر ہمیں درخواستیں دینا پڑتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈسکہ میں آپ ساری رات جاگ کر نوٹس لیتے ہیں۔ کبھی آفیشل اکاؤنٹس سے ٹوئٹ ہو جاتے کبھی پریس ریلیز آ جاتی ہے۔

فضل الرحمان نے الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ دیکھنا ہوگا کہ نوٹسز کا جھکاؤ ایک جانب ہی کیوں ہے۔

فرخ حبیب نے مزید کہا کہ ہمیں بار بار نوٹسز جاری ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایسے ٹویٹ جاری ہوتے ہیں لگتا ہے الیکشن کمیشن مشین کے مخالف ہے۔ اسی الیکشن کمیشن کے باہر مریم نواز اور مولانا بھی الیکشن کمیشن کے خلاف زبان استعمال کرکے گئے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کسی کی ذات کا بل نہیں ہے۔ پہلے اخبار اور ٹی وی سے متعلق قوانین بنائے گئے۔ اب ڈیجیٹل میڈیا آچکا ہے۔ ہم پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کا ایک مشترکہ قانون بنانا چاہتے ہیں۔ رپورٹرز، کیمرہ مین، این ایل سمیت میڈیا میں کئی ورکرز ہیں۔ ان ورکرز کے بارے میں ہم سوچ رہے ہیں۔ اس بل میں 28 دن میں فیصلہ ہوا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تکنیکی اعتراض ہے تو وزارت سائنس اس کو دور کرے گی۔ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر لمبی خاموشی نظر آتی ہے۔

الیکشن کمیشن ان چیزوں پر فوکس کرے۔ شفاف انتخابات کی کوشش کو سپورٹ کرنی چاہیے اپوزیشن نے ایک تجویز نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا دور ہے ای وی ایم پاکستان میں بھی آنی چاہیے۔ پی ایم ڈی اے کسی کی ذات کا مسئلہ نہیں، قوانین ہمیشہ بنتے رہتے ہیں۔ ریگولیٹری اداروں کو اکٹھا کرکے ایک قانون بنانا چاہتے ہیں تو کیا مسئلہ ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ملازمین کیلئے تنخواہوں کیلئے کوئی فورم نہیں ہے۔

فرخ حبیب نے مزید کہا کہ مس اور ڈس انفارمیشن میں فرق ہے، مس انفارمیشن کی تردید ہو سکتی ہے۔ انتخابی اصلاحات اور سمندر پار پاکستانیوں کے بل مشترکہ اجلاس میں آئیں گے۔ مشترکہ اجلاس کب ہوگا اس کی تاریخ ابھی حتمی نہیں۔ پی ایم ڈی پر آج بھی میٹنگز ہونگی۔ پریس گیلری بند کرنے کا معاملہ اسپیکر کا ہے۔

متعلقہ خبریں