جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اقدامات صحیح نہ لیئے تو ہم بھی ناکام ہوجائیں گے : عبدالحفیظ شیخ

اسلام آباد : عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ڈالرز ختم ہو چکے تھے اور کوئی قرضہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہمیں اس ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا، موجودہ بحران کا محور تیس ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے۔ اگر ہم نے اقدامات صحیح نہ لیئے تو ہم بھی ناکام ہوجائیں گے۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہتر سال بعد بھی پاکستان کے عوام کی امیدیں پوری نہ ہوسکیں۔ ہم دنیا سے سبق سیکھیں کہ کچھ ممالک آگے اور کچھ پیچھے کیوں رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑے حقائق کے بارے میں ادراک ہونا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا سچ ہے کہ ایک بھی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا۔ پاکستان اپنی چیزیں دنیا کو فروخت کرنے کے لئے قائل نہ کرسکا۔ پاکستان اپنی تاریخ میں کبھی بھی ٹیکس کلیکشن میں کامیاب نہ ہوسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے دور بھی آئے کہ ترقی کی رفتار کچھ تیز ہوئی، ساٹھ اور اسی کی دہائی کی معاشی تیزی زیادہ دیر تک نہ چل سکی۔ ان سوالات کے جوابات ڈھونڈے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ اپنی ناکامیوں کو سمجھیں اور ان کا حل نکالیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ جب یہ حکومت آئی تو ملک پر تیس ہزار ارب کا قرض تھا۔ ہماری حکومت پر تنقید تھی کہ ہم نے بھی قرضہ لیا۔ سال دو ہزار انیس بیس میں پانچ ہزار ارب قرضہ واپس بھی کرنا تھا۔ موجودہ بحران کا محور تیس ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بیس ارب ڈالر تھا۔ ایک طرف بیس ارب ڈالر کا خسارہ اور دوسری طرف پچانوے ارب ڈالر کا قرض تھا۔ پچھلی حکومت کا فلسفہ تھا کہ کرنسی کی قدر مستحکم رکھنی ہے۔ کرنسی مستحکم رکھنے کیلئے ڈالرز کو پھونکا جاتا ہے۔ دو ہزار سولہ سے اٹھارہ تک ڈالرز جھونکے گئے۔

انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کم سطح تک پہنچ گئے۔ فسکل خسارہ دو ہزار تین سو ارب روپے تھا۔ ڈالرز کمانے کا ایک ہی طریقہ ایکسپورٹ ہے۔ گزشتہ حکومت میں جان بوجھ کر ڈالر کی قیمت کم رکھی گئی۔ ٹوتھ برش سے لیکر ہر چیز باہر سے آئی۔ اگر ہم نے اقدامات صحیح نہ لیئے تو ہم بھی ناکام ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کی زراعت نے بھی ترقی نہیں کی۔ اس ملک کا توانائی سیکٹر اس ملک کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ گردشی قرضوں کیلئے بھی قرضہ لیا جارہا ہے۔ ڈالرز ختم ہو چکے تھے اور کوئی قرضہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہمیں اس ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ کیونکہ پاکستان کے عوام کو بچانا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعداد و شمار نہیں، ان کا تعلق لوگوں کی زندگیوں سے ہے۔ ہمارے دوست ممالک سے اٹھ ارب ڈالر حاصل کیئے۔ پیٹرول ڈیفر پیمنٹ پر معاہدہ کیا، جو لوگ خود آئی ایم ایف کے پاس گئے، انہیں یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ ہم پر تنقید کریں۔ آئی ایم ایف کوئی خوشی سے نہیں جاتا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے فائدہ ہوا۔ اس فیصلے سے دنیا کا پیغام ملا کہ ہم ایک نظم و ضبط کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ اس فیصلے سے دیگر مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا۔

عبدالحفیظ شیخ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے دوسری طرف بھی آئی ایم ایف کے لوگ تھے۔ رضا باقر پر پاکستان کو فخر ہونا چاہیے۔ جو لوگ باہر ہیں اور پاکستان آکر خدمت کرنا چاہتے ہیں ان کو دکھ نہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے کچھ ایسے فیصلے کیئے جو تاریخ ساز ہیں۔ ایک بڑا فیصلہ فوج کے بجٹ کو فریز کرنا تھا۔ اس فیصلے میں فوج کی لیڈر شپ اور جنرل باجوہ کا بڑا کردار تھا۔ کابینہ، ایوان صدر کے اخراجات کم کیئے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ ہزار ارب روپے انشاللہ ہم واپس کریں گے۔ سات ماہ میں حکومت نے اسٹیٹ بینک سے ایک روپیہ بھی قرضہ نہیں لیا۔ ایکسپورٹ نہ بڑھنا پاکستان کی تاریخی ناکامی ہے۔ ہم نے ایکسپورٹ اور کمزور ترین طبقوں کو پیسے دیئے۔ پاکستان کے نوجوان پاکستان نوجوان پروگرام سے فائدہ اٹھائیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے ایکسپورٹرز پر ٹیکس ختم کیا اور بجلی و گیس کو سبسڈائز کیا۔ پہلے سات ماہ میں ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب دنیا میں مندی آئی ہوئی ہے۔ اب چیلینج یہ ہے کہ صورتحال کو کس طرح مستحکم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سات ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بیس ارب ڈالر سے دو ارب ڈالر تک پہنچایا ہے۔ اخراجات اور آمدنی میں فرق سرپلس ہوگیا ہے۔ دنیا کا پاکستان پر اعتبار بڑھا ہے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ ڈالر کا ریٹ ایک سو اسی روپے ہوگا۔ پچھلے پانچ چھ ماہ سے ڈالر مستحکم ہے اور بیرون سرمایہ کار یہاں آرہے ہیں۔

متعلقہ خبریں