جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

خوشی ؟

خوشی

خوشی کیا ہے یہ بڑی عجیب چیزہے، جس کو الفاظ یا جملے میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک کیفیت ہے جو بتائی نہیں جاسکتی نہ دکھائی جاسکتی ہے، البتہ ہنس کر ،مسکرا کر یا پھر گلے لگا کر اس کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔

 

لیکن خوشی نامی کیفیت کی مکمل تعریف نہیں کی جاسکتی ۔ ویسے کبھی آپ نے اپنے اپ سے یہ سوال کیا ہے کہ آپ اپنی زندگی سے کتنے خوش ہیں یا آپ جو زندگی گزار رہے اس میں کتنے خوش ہے؟سوال تھوڑا عجیب ہے لیکن ذرا کیجئے تو۔

 

یہ پڑھیں : پاکستانیوں کی منفرد مگر منفی سوچ

 

زندگی سے خوش ؟ اس کا کیا مطلب ؟ اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ آپ زندگی میں جو کرنا چاہتے تھے وہ آپ نے کردیا۔ہاں شاید پیسے یا دولت کم کمائی مگر جو کیا دل سے کیا۔ دل میں کوئی بے چینی یا خلش نہیں ہے کہ مجھے جو کام کرنا تو وہ میں نہیں کرپایا، یعنی مجھے فوٹوگرافر بننا تھا اور میں بینکر بن گیا۔

 

مجھے آرٹسٹ بننا تھا اور میں ڈاکٹر بن گیا۔ زندگی سے خوش یعنی جو دل نے بولا وہ کیا نہ کہ دوسرے کے ارادوں کو اپنی منزل بنائی۔”زندگی سے خوش” کی مختصر ترین تعریف یہ ہے کہ اپنے ارادوں کو اپنی منزل بنائی نہ کہ دوسروں کے ارادوں کو اپنا مقام جانا۔ اپنی لگن کے مطابق، اپنے جدوجہد ، ہار نہ ماننے کی سوچ لے کر اپنے ارادوں پر قائم رہے اور اپنی پسندیدہ منزل پر پہنچے جو زندگی سےخوشی ہے۔

 

How 7 of the world's most successful people found their career path

 

دوسرا نقطہ نظر یعنی آپ اپنی زندگی میں خوش ہیں۔ یعنی آپ نے اپنے آپ کو اس جانب دھکیلا یا کھینچ کر لے گئے جس میں آپ کو اپنا مستقبل روشن نظرآیا اور اپنے آس پاس موجود لوگوں کے دباؤ اور اُن کے ارادوں کو اپنی منزل سمجھا۔اس میں گھر والوں کی ڈیماند اور معاشرے کی خواہش کے مطابق چلنا ہوتا ہے اور اپنا کریئر کامیاب بنانا شامل ہیں۔

 

اس میں کرئیر بنانا ہی منزل ہےنہ کہ اپنی خواہش اور دلچسپی کے مطابق اپنا کرئیر چننا ہوتا ہے۔ اس میں وہ بندہ محنت کرتا ہے ، اپنی جان مارتا ہےمگر مقصد کرئیر ہوتا ہے ایسا کرئیر جس میں اچھی انکم ہو یا اچھا روزگار ہو۔

 

ہم میں سے اکثر لوگ ایسے ہی اپنی زندگی گزارتے ہیں جس میں دوسروں کے ارادے ہوتے ہیں اور ہماری جدوجہد۔ اس میں قطعی کوئی مسئلہ نہیں نہ کوئی یہ غلط راستہ ہے مگر دل کو مارنا بھی کوئی اچھی بات تو نہیں۔

ہمارے معاشرے میں شاید ایک فیصد یا اس سے بھی کم لوگ ہونگے جو اپنی خواہش کے مطابق چلتے ہونگے اور اپنےارادوں پر مضبوظی کے ساتھ ڈٹے رہتے ہونگے اور اپنے مقصد کے لئے جیتے ہونگے ۔

 

اس بارے  میں پڑھیئے : 70 بائیک ،خاندانی بائیک

 

بقیہ ایسے لوگ ہیں جو معاشرے اور خاندان کے ارادوں کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالتے ہونگے، کیونکہ ان کے ذہن میں خوف ہوتا ہے ناکا می کا اِس لئے اپنی خواہش یا اپنے ارادے کو زندہ درگور کرکےمشین بننے اور روبوٹک لائف گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

یہ وہ ہی مثال ہے کہ لڑکی پیدا ہوئی تو ڈاکٹر اور لڑکا پیدا ہوا تو انجینئر۔ بچوں کی خواہش اور دلچسپی خاندان کے ارادوں میں دب جاتی ہے۔ اگر ابا نے فیصلہ کردیا کہ لڑکا انجیئنر بنے گا تو وہ جیسے تیسے جان مار کر بن تو جائے گا مگر دل زندگی بھر نہیں لگے گا ۔

 

کیونکہ اس کا پائلٹ بننے کا دل ہو گایافوٹوگرافر بننے کاشوق ہوگا مگر نہیں بن سکے گا، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہوتی ہے کہ ابا چاہتے ہیں اس لئے وہ اپنی خواہش کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔

اسی طرح بے شمار بچے اپنے پسند کا گلا گھونٹتے ہیں کسی اور کے ارادے اور خواہش کی خاطر ۔

 

6 Factors to Consider Before Choosing Your Next Job | Job-Hunt

 

کمزور ذہن میں شروع دن سے ناکامی کا خوف بٹھایا جاتا ہے کہ تم جس فیلڈ کو پسند کرتے ہو وہ اچھی فیلڈ نہیں ہے نہ اس میں اچھی نوکری ہے اور اگر نوکری ہے بھی تو اچھا مستقبل نہیں ہے توبس اس خواہش کو جانے دو۔اور پھر ایسے ہی بہت سے لوگ اپنے خوابوں کو کھودیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں پر سمجھوتا کرلیتے ہیں کیونکہ وہ دنیا والوں کے سامنے کامیاب دکھنا چاہتے ہیں ۔

 

کیونکہ شعورکم ہوتا ہے اور ارادے کمزور ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ کہنا والا تجربہ کار ہے اس لئے اس کی بات پر عمل کرنے میں ہی بہتری ہے اور پھر وہ اپنے کسی اور کی بتائے راستے پر گامزن ہوجاتا ہے۔

 

یہ پڑھیں : ہم اس دور کے مطمئین منافق ہیں

 

یہ وہ ہی مثال ہے کہ آپ زندگی گزار رہے ہیں یا زندگی آپ کو گزار رہی ہے۔آج ہمارے پاس ایسےبے شمار لوگ ہیں جو زندگی میں تو بظاہر کامیاب ہیں مگر وہ خود ایک مشین ہوکر رہ گئے ہیں۔

انھوں نے اپنے صلاحیت و شوق کو کسی اور کی خواہش پر قربان کردیا ہے ۔ وہ بظاہر اپنے فیصلے سے خوش بھی ہیں مگردل میں ایک خلش ہے۔

 

زندگی تو خیر سب کی گذر جاتی ہے مگر کون اپنے ارادوں کے ساتھ گزارتا ہے اور کون کسی اور کی خواہش کے ساتھ یہ انسان کی اپنے مضبوطی پر منحصر ہے۔ کوشش کیجئے زندگی سے خوش ہونے کا ارادہ کیجئے تاکہ اندورنی سکون ہو اورمستقبل میں کوئی پشیمانی نہ ہو۔

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ خبریں