جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پاکستانی روپیہ تیزی سے بے قدری کی جانب گامزن، وجوہات کیا ہیں؟

بے قدری

کراچی : پاکستانی روپیہ انتہائی تیزی سے بے قدری کی جانب گامزن ہے۔ انٹر بینک میں چار روز کے دوران ڈالر کی قدر میں سات روپے سے زائد کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین کے مطابق اضافے کے پیچھے ڈالر کا ملک سے مسلسل اخراج ہے۔

جمعرات کی شام تک انٹر بینک میں ایک ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ ایک سو چھیاسٹھ روپے کی حد تک گرچکا ہے اور پاکستانی روپے کی یہ بے قدری تاریخ کی ریکارڈ بے قدری ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر کے اس اضافے کے پیچھے ملک سے مسلسل اخراج ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں ٹریژری بلوں میں ہوئی سرمایہ کاری سے 1.6 ارب ڈالر نکل کر بیرون ملک جا چکے ہیں۔

ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں ڈالر کا حکومتی سیکورٹیز سے اخراج کورونا وائرس کی وباء سے پھیلنے والی غیر یقینی صورتحال بتائی جارہی ہے، جس کے باعث پوری دنیا کی معیشت خطرے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈالر بلند ترین سطح 166 روپے پر پہنچ گیا

بین الاقوامی سرمایہ دار غیر یقینی کا شکار ہونے کہ وجہ سے اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں، ان ڈالروں کے اخراج نے پاکستان میں ایکسچینج ریٹ پر زبردست دباؤ ڈالا ہے، جس کے بعد ڈالر کی قدر میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

دوسری طرف سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈالر پاکستان سے باہر جارہا ہے تو جا کہاں رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں مالیاتی اور معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے

کہ کورونا وائرس کے بعد بین الاقوامی سرمایہ کار اور عالمی فنڈز محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش ہیں ہیں اور اس وقت سب سے محفوظ سرمایہ کاری ڈالر میں سرمایہ کاری سمجھی جا رہی ہے اور اس کا محفوظ ٹھکانہ امریکی بانڈز اور ٹریژری بلز ہیں۔

ان ماہرین کے مطابق پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں سے بھی ڈالر کا اخراج دیکھنے میں آیا ہے،

جس کی بنیادی وجہ ان کا امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری کر کے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں اپنے سرمائے کو محفوظ بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں