جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

ڈیٹا دو یا پھر کھسک لو : واٹس اپ کا الٹی میٹم

whatsapp-privacy-policy-Urdu

آج سے چند دن پہلے کچھ دوستوں کے موبائل پر واٹس اپ کی جانب سے ایک نوٹس بنام اپڈیٹس پرائیوسی پالیسی موصول ہوا ۔ چند دوستوں نے وہ نوٹس پڑھے بغیراسے قبول کرلیا ، لیکن ایک دوست نے پڑھنے کی زحمت کی تو وہ حیران ہوا کہ یہ کیسی پالیسی ہےجس میں ہر قسم کا نجی ڈیٹا فیس بک کو دیا جائے گا۔

یاد رہے فیس بک واٹس اپ کو 2014 میں اور انسٹا گرام کو 2012 میں خرید چکا ہے۔ یعنی ان سب کو چلانے والے فیس بک ہے۔اس کے علاوہ 3 کمپنیز اور ہے جو فیس بک چلاتی ہے ان میں اوکیولس وی آر،اوناوو، بیلی جا شامل ہیں۔ لیکن ان سب میں واٹس اپ سب سے زیادہ مشہور اور استعمال کی جاتی ہے۔

 

پاکستان میں واٹس اپ کے 8 کڑوڑ صارفین ہے جس میں روازنہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے۔ واٹس اپ دراصل ایک میسجنگ ،میڈیا شیئرنگ اور کالنگ اپلیکشن ہے اور اس کی سب سے خاص بات اس کی خفیہ کاری ہے یعنی اس کا ڈیٹا صرف سرور تک رہتا ہے اور اس کو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاسکتا۔مگر چند دن پہلے موصول ہونے والی پالیسی نے اس کی سب سے خاص بات کو ختم کردیا کیونکہ اب ہر قسم کا ڈیٹا فیس بک کے پاس جائے گا اور وہ اس کو آگے یعنی تھرڈ پارٹی کو بیچ سکتے ہیں۔

Image

وہ ڈیٹا کیا ہوسکتا ہے پہلےتو یہ جان لیجئے۔وہ ڈیٹا جو واٹس اپ فیس بک کو دے گا اور فیس بک اپنی مرضی سے اس کا استعمال کرے گا اس کی مختصرفہرست یہ ہے:

-بنیادی معلومات، نام، تصویر وغیرہ
-مالی لین دین اور ٹرانزیکشن معلومات
-انٹرنیٹ کنیکشن کی معلومات
-بیٹری لیول کیا ہے؟
-واٹس اپ کتنااستعمال کرتے ہیں؟
-پیمنٹ اور ٹرانزکشن کتنی ہوتی ہے( سہولت آنے والی ہے)
-اسٹیٹس اپ ڈیٹس
-کون کون سے گروپس میں شامل ہیں؟
– تصویریں اور ویڈیوز
-موبائل ماڈل/فون کا ورژن
-لوکیشن
ٓ-آئی پی ایڈریس سے دوسری تمام معلومات /وائی فائی روئٹر سے کنیکٹ دوسرے موبائلز کی تفصیلات
-کون سا براؤزر استعمال کرتے ہیں
وغیرہ وغیرہ

 

اگر حقیقت پسندی کو سامنے رکھیں تو یہ بات ہمیں اب معلوم ہوجانی چاہیئے کہ ہم جیسے ہی سوشل میڈیا پر سائن ان کرتے ہیں تو ہمار امختلف قسم کا ڈیٹا ان تک پہنچ جاتا ہے۔

اس بارے میں وہ آپ سے اجازت بھی لیتے ہیں اور اس کے بات وہ آپ کا تمام ڈیٹا کسی نہ کسی صورت استعمال کرتے ہیں یعنی آپ جیسے ہی سوشل میڈیا پر تشریف لائے تو آپ کی کوئی چیز نجی نہ رہی اور وہ سب کمپنی کے پاس چلی گئی۔ اپ نے کبھی غور کیا ہے کہ فیس بک پر آپ کے پسند کے برینڈز یا چیزوں کےاشتہار کیوں آتے ہیں کیونکہ وہ ہماری پسند اورہماری سرچ کو مانیٹر کررہا ہے اوراسی کے مطابق اشتہارسامنے آتے ہیں۔لیکن اب جو کام فیس بک پر ہوتا تھا وہ اب واٹس اپ سے بھی ہوگا اور پھر مستقبل میں ہمارا پرسنل ڈیٹا وہ اپنی مرضی سے کہین بھی استعمال کریں گے۔

 

لیکن اگر پہلے بھی ڈیٹا استعمال ہوتا تھا اور اب بھی ہوگا تو قباہت کیا؟ دراصل واٹس اپ ایک محفوظ اپلیکیشن تھی جس کا استعمال گھر کے افرادباآسانی کرتے تھے اور اپنی تصاویر اور ویڈیوز بھی بھیجتے تھے اسی طرح دو لوگوں کی انتہائی نجی گفتگو بھی ہوتی تھی ، ساتھ ساتھ پرسنل ڈاکیومنٹس بھی شیئر کئے جاتے تھے لیکن پہلے اپلیکیشن تک ہی ڈیٹا رہتاتھا مگراب تھڑڈ پارٹی کے پاس جائے گا اور استعمال ہوگا۔

Image

یقیناًاس پالیسی کےبعدیہ ایپ محفوظ نہیں رہی ہے اور بڑی تعداد ان ٹیلی گرام اور سگنل جیسی دوسری اپلیکشن کی طرف رخ کررہے ہیں۔ یقیناً واٹس اپ کی بڑی تعداداس کے بعد اس اپلیکشن سے دور ہونے کا فیصلہ کرچکی ہے اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ غلط کام کررہا ہے بلکے وہ اپنی نجی معاملات کو محفوظ رکھنا چاہتا ہوگاکیونکہ ہر انسان کی پرسنل لائف بھی ہوتی ہے مگر واٹس اپ کا یہ فیصلہ لوگوں کی نجی زندگی میں کھُلی مداخلت کی مانندہے۔

 

غور کریں تو یہ فیس بک ہو یا انسٹا یاپھر واٹس اپ ، یہ مکمل ٹریپ ہے۔سب سے پہلے یہ عادت ڈلواتے ہیں اور پھر محتاج بناتے ہیں تاکہ لوگ باحالت مجبوری اس اپلیکشن سے جڑے رہیں کیونکہ عام صارفین کے لئے ایک مقولہ عام ہے کہ ” If You Don’t pay for the product, You are the product.”

Image

بحرحال واٹس اپ نے اس پالیسی کو قبول کرنے کے لئے 8فروری کا الٹی میٹم دیا ہے۔ کچھ لوگوں نے تو جانے انجانے میں اس کو قبول کرلیا اور کچھ لوگ ابھی تک اس کشمکش میں ہے کہ اسے قبول کریں یا نہ کریں ،لیکن ایک اور طبقہ ہےجس نے واٹس اپ کو الوداع کرنے کا سوچ لیا ہے اور متبادل کے طورپر ٹیلی گرام اور سگنل جیسی اپلیکشن کی طرف رخ بھی کرلیاہے۔احتجاج تو جاری ہے اب دیکھتے ہیں واٹس اپ کمپنی کے سیٹھ یہ پریشر لیتے ہیں یا پھرہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں اور ہاں یاد رہے اس پالیسی کا اطلاق 27 ممالک کے یورپی یونین کے باشندوں پر نہیں ہوگا۔

 

آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں اظہار رائے کمینٹس سیکشن میں کریں۔

 

جی ٹی وی ویب ڈیسک

متعلقہ خبریں