جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

جب وزیراعظم کرپشن کرتا ہے تو پیسہ باہر لے جانا اس کی مجبوری ہوتی ہے

عمران

غازی بروتھا: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وزیراعظم کرپشن کرتا ہے تو پیسہ باہر لے جانا اس کی مجبوری ہوتی ہے، چوری کرنا ایک نقصان اور چوری کا پیسہ باہر بھیجنا یعنی منی لانڈرنگ کرنا اس سے بھی بڑا نقصان ہے جس سے ملک تباہ اور مقروض ہوجاتا ہے۔

غازی بروتھا میں شجرکاری مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ درخت مستقبل کے لیے ضروری ہیں، موسمیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے بلین ٹری منصوبے کو کامیاب کرنا ہوگا، بدقسمتی سے ماضی میں ہم نے درخت لگانے پر توجہ نہیں دی اور جنگلات کو بے دردی سے ختم کیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ ماضی میں کرپٹ لوگوں نے صرف پیسا چوری نہیں کیا بلکہ ملک کی اخلاقیات بھی تباہ کردیں، پیسے کی چوری سے زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ فضا بنادی کہ کرپشن تو عام بات ہے اور کوئی بری چیز نہیں، یہ چیز کرپشن سے زیادہ خطرناک ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی ایک مثال دکھادیں کہ کوئی ملک خوشحال بھی ہو اور وہاں کرپشن بھی ہو، پٹواریوں، سرکاری ملازمین اور تھانے داروں کی کرپشن اور رشوت خوری سے عوام پریشان ضرور ہوتے ہیں لیکن اس سے ملک تباہ نہیں ہوتا بلکہ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب اس کا وزیراعظم اور وزرا کرپشن کرنا شروع کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم کرپشن کرتا ہے تو پیسہ باہر لے جانا اس کی مجبوری ہوتی ہے، ورنہ لوگوں کو نظر آجائے گا، چوری کرنا ایک نقصان اور چوری کا پیسہ باہر بھیجنا یعنی منی لانڈرنگ کرنا اس سے بھی بڑا نقصان ہے جس سے ملک تباہ اور مقروض ہوجاتا ہے۔

عمران خان نے شریف فیملی کے بارے میں کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف خود بھی باہر، بچے، منشی اسحاق ڈار اور داماد بھی باہر شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، دونوں خود اور ان کے بچے مہنگی ترین رولز رائس کار چلا رہے ہیں، ایسا لگ رہا ہے کہ یہ گوال منڈی میں نہیں برطانیہ کے محلات میں پیدا ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کو دیکھیں تو لگتا ہے باپ کی سائیکل کی دکان نہیں بلکہ مے فیئر میں رولز رائس کی دکان تھی، ان کے پاس ایک کاغذ اور کوئی ثبوت موجود نہیں کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات میں اکثریت سے کامیاب ہونگے، وزیراعظم کا دعویٰ

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کا تماشا دیکھ رہے ہیں، منڈی لگی ہے، سینیٹر بننے کے لیے سیاست دانوں کو خریدنے کے لیے قیمتیں لگ رہی ہیں، 30 سال سے یہ ہورہا ہے اور سب کو پتہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ سیاسی جماعت کا رکن اسمبلی بتائے کسے ووٹ دے رہا ہے تو اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں اوپن نہیں خفیہ ووٹ دو، حالانکہ پہلے یہ سب خود کہتے تھے کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے تو پھر ان میں یہ تبدیلی کیسے آئی ہے؟۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ دراصل اپوزیشن ہمیں گرانے میں ہر جگہ ناکام رہی، مینار پاکستان جلسہ ناکام ہوگیا، فیٹ قانون سازی، کورونا وبا سمیت ہر جگہ حکومت کو شکست دینے میں ناکام ہوگئی، اب یہ سوچ رہے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں ہمارے لوگوں کو خرید کر کسی طرح اپنے زیادہ سینیٹر لے آئیں، یہ کون سی جمہوریت ہے، کبھی جمہوریت میں بھی کوئی پیسہ دے کر آتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے سینیٹ الیکشن میں کے پی سے پی پی پی کے 2 سینیٹرز پیسہ چلاکر آگئے، مہذب معاشرے میں جرات نہیں ہوتی خفیہ بیلٹ کی، لیکن یہاں رشوت دے کر ووٹ خریدے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے سینیٹرز بننے والے عوام کی خدمت نہیں بلکہ عوام کا خون چوسے گا اور پیسہ بنانے آئے گا، یہ قوم فیصلہ کن وقت پر کھڑی ہے، ایک طرف عوام ہے دوسری طرف ڈاکو اور ان کا مافیا ہے، انشاء اللہ جیت پاکستان کی ہوگی۔

متعلقہ خبریں