جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

مطالبہ بلاجواز ہے، نہ حکومت مستعفیٰ اور نہ ہی اسمبلیاں تحلیل ہوں گی : صدر مملکت

نہ ہی اسمبلیاں

اسلام آباد : صدر مملکت کا کہنا ہے کہ نہ حکومت مستعفیٰ ہوگی اور نہ ہی اسمبلیاں تحلیل ہوں گی، کب اور کس سے ڈائیلاگ کرنا ہے یہ وزیراعظم طے کریں گے۔

صدر مملکت عارف علوی نے سیئنیر صحافیوں سے ملاقات میں سیاسی حالات پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کا حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ بلاجواز ہے۔ دو برس سے سیاسی نظام کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا ہے۔ انتخابی اصلاحات پر قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کب اور کس سے ڈائیلاگ کرنا ہے یہ وزیراعظم طے کریں گے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا واحد نقطہ کرپشن سے پاک پاکستان ہے۔ قومی ڈائیلاگ نیب اور بدعنوانی کے خاتمے کے ایجنڈے کے بغیر ناممکن ہے۔ 2014 میں ہم نے آئین کی حدود میں رہ کر عسکری قیادت سے ملاقات کی۔ نہ حکومت مستعفیٰ ہوگی اور نہ ہی اسمبلیاں تحلیل ہوں گی۔ آنے والے دنوں میں ملک میں سیاسی تناؤ میں کمی آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں : بچوں سے بات نہیں ہوگی، اپوزیشن کے سنجیدہ رہنماؤں سے مذاکرات کے لیئے تیار ہیں : وفاقی حکومت

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بات ہوتی ہے۔ صدر اور وزیراعظم میں روزنہ رابطے برقرار ہیں۔ وزیراعظم اور میں اسلامی تاریخی کتب پڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا میرے ساتھ مزاح کا پہلو بھی رہتا ہے۔ اکثر معاملات پر وزیراعظم مجھے سمجھاتے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر قومی ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچستان میں گڑ بڑ اور تخریب کاری کے واقعات میں 99 فیصد بھارت کا ہاتھ ہے۔ بھارت کھل کر سی پیک کے خلاف ہے، اسی لیے اسکے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے ہمارہ موقف واضح ہے۔ حکومت پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی غیر ملکی دباؤ نہیں۔ حکومتی نمائندے کی اسرائیل کا دورہ کرنے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے۔ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ ہم این آر او نہیں مانگ رہے، این آر او پر بحث سخت ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں