جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

اردو شعر و ادب کا آغاز ہوا تو مختلف اصناف پر توجہ دی گئی

مختلف کا

اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں شاید ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ ڈراما لکھنے پڑھنے سے زیادہ ’’کھیلنے‘‘ کا متقاضی ہوتا تھا جس میں مختلف کردار کا بہروپ بھرنا لازمی تھا اور یہ کام بھانڈوں اور نقالوں کا کہا جاتا تھا

یہ متانت اور سنجیدگی کے خلاف تصور ہوتا تھا شاید اسی لیے اربابِ قلم نے اس کو قابلِ اعتنا نہ جانا۔ تاآںکہ علم و ادب کے رسیا، کھیل تماشوں کے شوقین، رقص و موسیقی کے دلدادہ اور جدّت پسند طبع کے مالک نواب واجد علی شاہ کا اس طرف میلان ہوا۔

رادھا کنھیا کا قصّہ‘‘ 1842ء میں اسٹیج پر انھوں نے پیش کیا۔ اس طرح شاہی سرپرستی میں ڈراما کھیلا گیا تو لوگوں کی جھجھک دور ہوئی اور جلد ہی اہلِ اردو ڈراما نگاری کی طرف مائل ہو گئے۔

دس سال کے اندر اندر ہی امانت کی ’’اندر سبھا‘‘ نے اسٹیج کی دنیا میں دھوم مچا دی۔ اسی دوران تھیٹر شروع ہو گیا تھا مغربی ڈرامے پیش کرنے کے لیے بہت سی تھیٹریکل کمپنیاں وجود میں آ گئیں اور یوں ڈراما نویسوں کی ایک بڑی تعداد ابھر کر سامنے آئی۔

بعد میں آغا حشرؔ نے اردو ڈرامے کی دنیا میں گویا انقلاب برپا کر دیا اور مختلف ڈرامے لکھے، وہ خود ان کے ہدایت کار بھی تھے۔ ان کے زیادہ تر ڈرامے ماخوذ ہیں۔ اس زمانے میں لکھاریوں نے بدیسی ڈراموں کو مشرقی رنگ میں ایسا رنگا کہ کہیں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ مقامی کہانیاں بھی تھیٹر پر پیش کی جانے لگیں اور اعلیٰ معیار کے ڈرامے بنے۔

بیسویں صدی میں سنیما کا چلن عام ہوا اور تھیٹر اور اسٹیج پر زوال آتا چلا گیا۔ اُس زمانے کے ڈراموں کی طباعت و اشاعت بھی کی گئی مگر اب ان کے نسخے دست یاب نہیں۔

یہ بھی پڑ ھیں:’دانش جانتا تھا سکون صرف قبر میں ہے‘، ڈرامے کےاختتام پر وائرل پوسٹس

ہماری ادبی روایات کا اہم حصّہ ہیں، لیکن تحریری صورت میں ہمارے سامنے نہیں اور یوں آج کے باذوق نوجوان اور ادب کے طالب علم عظیم ورثے سے محروم ہیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ڈرامے کی صنف پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جب کہ دوسرے علوم و فنون کی ترویج و ترقی میں مسلمان حکم رانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کا بڑا سبب غالباً یہ تھا کہ نہ تو عربی و فارسی ڈرامے کی کوئی روایت ان کے سامنے تھی اور نہ سنسکرت ڈرامے کی روایت ہی باقی تھی، لہٰذا ڈراما ان کی سرپرستی سے محروم رہا۔

مسعود حسن رضوی ادیبؔ لکھتے ہیں اندر سبھا اردو کا پہلا ڈراما نہیں ہے لیکن اس سے اُس کی تاریخی اہمیت میں کوئی کمی نہیں ہوتی، وہ اردو کا پہلا ڈراما ہے جو عوامی اسٹیج کے لیے لکھا اور کھیلا گیا ۔ وہ پہلا ڈراما ہے جس کو عام مقبولیت نے ملک میں شہر شہر اور اودھ میں گاؤں گاؤں پہونچا دیا۔ وہ اردو کا پہلا ڈراما ہے جو چھپ کر منظرِ عام پر آیا اور سیکڑوں مرتبہ شائع ہوا۔

متعلقہ خبریں