جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

نیب کا احتساب کیوں نہیں ہو سکتا، عمران خان کو بھارتیوں سے پیسے لینے پر شرم نہیں آئی؟ خواجہ آصف

نیب کا احتساب

اسلام آباد : لیگی رہنماء نے سابق چیئرمین نیب کی کمیٹی میں عدم شرکت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے مزید کہا کہ نیب کا ادارہ کیوں احتساب نہیں دے سکتا؟

مسلم لیگ ن کے رہنماء اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نور عالم خان کی باتوں کا گواہ ہوں۔ یہ جو مختلف اداروں کو استثنیٰ ہے، وہ آئین کی نفی ہے۔ میں آئین کے مطابق سب اقدامات کی حمایت کرونگا، پارلیمنٹ کو اپنی کمیٹی کے پیچھے کھڑا ہونا چاہییے۔

انہوں نے کہا کہ پی اے سی سب سے زیادہ بااثر کمیٹی ہے، کوئی اسے چیلنج کرے تو ہمیں ضرور اس کو ایوان میں لانا چاہیئے۔ ساری دنیا میں یہ روایت ہے کہ بار دی ہاؤس میں بلایا جاتا ہے، لوگ  اپنے آپ کو مقدس گائے سمجھتے ہیں، جنہیں بار بار بلایا جائے مگر وہ نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے مطابق کہا گیا کہ پی اے سی طلب نہیں کرسکتی ہے۔ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور اسلام آباد میں احتساب ہوا، مگر خیبر پختونخوا میں تالا لگا دیا گیا۔ احتساب کے ادارے کی خیبر پختونخوا سے چھٹی کرادی گئی۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ مدینے کی ریاست کا اعلان کرتے رہے اور اپنی حکومت کے احتساب میں رکاوٹ ڈالتے رہے۔ جعلی حلف نامے الیکشن کمیشن میں جمع کراتے رہے، فارن فنڈڈ لوگ اس ایوان میں آکر مسلط ہوتے رہے۔ ایک آئینی ادارے کی کمیٹی بلائے تو آنا تو کجا دفتر ہی بند کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : مسنگ پرسنز کمیشن کا سربراہ اس کو بنائیں گے، جو خواتین سے شادی کا پوچھے؟ نور عالم

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارتیوں، اسرائیلی اور امریکیوں سے پیسے وصول کرتے ہوئے انہیں شرم نہیں آئی؟ امریکی شہریوں سے پیسے لیتے ہیں ملبہ ہم پر ڈالتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا ادارہ کیوں احتساب نہیں دے سکتا؟ جہاں سے انصاف اٹھ جائے وہاں ملک قائم نہیں رہتے۔ دفاعی ادارے اپنا احتساب پیش کرسکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں پیش ہوسکتے؟ جنرل باوردی آسکتے ہیں تو نیب چیئرمین کیوں نہیں کمیٹی میں آسکتا؟ کوئی خاتون نیب میں آجائے تو اس کا جو حال ہوتا ہے وہ نور عالم خان نے بتادیا ہے۔ پی اے سی کے حوالے سے اسپیکر کو رولنگ دینی چاہیے کیونکہ کمیٹی کا اختیار ہے وہ کسی بھی طلب کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص چوری کرتا ہوا پکڑا جاچکا ہے، ایک آئینی ادارے نے اس کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ خدانخواستہ کوئی غیر مسلم کوئی بات کرے تو مذہبی حمیت جاگ جاتی ہے۔ مگر جب ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ساتھ نہ دینے پر شرک سے تعبیر کرتا ہے تو کوئی مذہبی حمیت نہیں جاگتی۔ نہ اداروں کا ضمیر جاگتا ہے نہ افراد کا نہ کوئی فیض آباد پر آکر دھرنا دیتا ہے نہ کوئی جلسہ جلوس نکالتا ہے۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ ایوان کے تقدس کا تحفظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم ہی اسے بالادست بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ ادارہ بالادست ہوجائے تو پاکستان ٹھیک ہو جائے گا۔ 75 سالوں میں سب سے زیادہ پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا گیا، کبھی فوجی آمر اور کبھی 58 ٹو بی کے ذریعے حملہ ہوا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 2008ء کے بعد کوئی حادثہ ادارے کے ساتھ نہیں ہوا مگر ہم کئی بار اس کے قریب پہنچے۔ ثابت کرنا ہوگا کہ پارلیمنٹ ہی بالادست ادارہ ہے اور اسی طرح اسکا تحفظ ہوگا جیسے ہونا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں