دمہ کے مریضوں کے عالمی دن پر ضروری ہدایات

کراچی: آج دنیا بھر میں دمے کے مرض سے آگاہی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ سانس کی نالیوں میں خرابی یا پھیپھڑوں کی نالیوں کے باریک ہونے کے سبب سانس لینے میں تکلیف کے مرض کو دمہ کہاجاتا ہے ۔ماہرین کے مطابق دمے کا مستقل علاج نہیں مگر احتیاط سے اسے روکا جا سکتا ہے۔

دمہ ایک ایسا مرض ہے جس کے سبب انسان قسطوں میں مرتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری جس میں سانس کی نالیوں میں سوزش ہونے کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ یہ بیماری سب سے زیادہ موسم سرما میں پھیلتی ہے جس کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا مریض موسم سرما میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

دمے کی شناخت کی کئی علامتیں ہیں جیسےسانس لیتے وقت مشکل ہونا، کھانسی،سانس پھولنا، سینے کا درد،نیند میں بے چینی یا پریشانی ہونا،تھکان اور بچوں کو دودھ پینے میں تکلیف ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص علاج نہیں ہے مگر اسے مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ جسمانی جانچ اور میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے سے اس بیماری کی پہچان ہوتی ہے۔

دمے کی روک تھام دو طریقوں سے کی جاسکتی ہے، ایک علاج اور دوسرے احتیاط سے۔ احتیاط یہ ہے کہ مریض کو اپنے روزمرہ کے معمولات تبدیل کرنا ہوں گے۔ اگر وہ کسی بھی قسم کے نشے کا عادی ہوتو فوراً اسے چھوڑ دے۔ دھول، مٹی اورفضائی آلودگی سے بچیں اور موسم کی تبدیلی سے نقصان ہوتا ہوتو اس کے لیے محفوظ اقدامات اختیار کریں۔