جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

عالمی ادارہ صحت کا کھانسی کے شربت سے ہونے والی اموات پر ٹھوس کارروائی کا مطالبہ

ٹھوس کارروائی

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مہلک کھانسی کے شربت کے باعث معصوم بچوں کی ہلاکت پر فوری اور ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2022 میں، گیمبیا، انڈونیشیا اور ازبکستان میں 300 سے زیادہ بچے؛ جن کی عمریں بنیادی طور پر 5 سال سے کم تھیں؛ گردے کی شدید چوٹ کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے، یہ اموات آلودہ ادویات سے وابستہ تھیں۔

ادارے نے بچوں کی اموات میں اضافے کے بعد بچوں کو آلودہ ادویات سے بچانے کے لیے فوری اور ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق کھانسی کے شربت میں ڈائیتھیلین گلائکول اور ایتھیلین گلائکول کی اعلیٰ سطح موت کا سبب تھی۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ یہ زہریلے کیمیکل صنعت میں استعمال ہوتے ہیں، ان کی تھوڑی مقدار بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، انہیں کبھی بھی دوائیوں میں نہیں پایا جانا چاہیے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا کہ چونکہ یہ الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں، اس لیے ڈبلیو ایچ او میڈیکل سپلائی چین میں مصروف مختلف اہم اسٹیک ہولڈرز سے فوری اور مربوط کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی کھانسی کے شربت سے 18 ازبک بچوں کی موت، تحقیقات کا آغاز، یو این بھی متحرک

ڈبلیو ایچ او نے بھارت کی فارما کمپنیوں میں تیار کیئے گئے کھانسی کے شربت کو مارکیٹوں سے ہٹانے کا کہا تھا، جو بالترتیب گیمبیا اور ازبکستان میں اموات سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا کے چار مینوفیکچررز کے کھانسی کے شربت کے لیے بھی وارننگ جاری کی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے دنیا سے زیادہ وسیع پیمانے پر مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ فروخت کے لیے کوئی بھی دوائیں مجاز حکام سے منظور شدہ ہوں۔ اس نے حکومتوں اور ریگولیٹرز سے بھی کہا کہ وہ مینوفیکچررز کا معائنہ کرنے، مارکیٹ کی نگرانی بڑھانے اور جہاں ضرورت ہو کارروائی کرنے کے لیے وسائل تفویض کریں۔

مینوفیکچررز سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ صرف کوالیفائیڈ سپلائرز سے خام اجزاء خریدیں، ان کی مصنوعات کی مزید اچھی طرح جانچ کریں اور اس عمل کا ریکارڈ رکھیں۔

متعلقہ خبریں