جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

"بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے” آزادی صحافت کا عالمی دن

کراچی(ویب ڈیسک): آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کسی بھی ملک کی ترقی میں صحافت کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے۔ خطے میں دہشتگردی کی لہر کے باعث گذشتہ برسوں میں درجنوں صحافی دہشتگردی کا شکار ہوئے،جس میں 2002 سے 2018 تک 72 صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ لیکن پاکستان میں اب تک 5 صحافیوں کے قاتلوں عدالتوں کی جانب سے مجرم قرار دیا گیا ہے۔اس کے باوجود بھی صحافیوں نے عوام تک حقائق پہنچانے کا اپنا کام جاری رکھا۔

سچ کی تلاش اور حقیقت کے بیان کی جدوجہد میں مصروف صحافی آج بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ تین مئی کو صحافت کی آزادی کا دن تو منایا جاتا ہے لیکن صحافت کتنی اور کہاں آزاد ہےاس کی تلاش بھی شاید صحافی کو خود ہی کرنی پڑتی ہے۔

آج کے حالات میں اس دن کی اہمیت اس لیئے بھی بڑھ جاتی ہے، جب پاکستان میں صحافی شدید مالی مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ریاستی اداروں، شدت پسند مذہبی گروہوں، سیاسی جماعتوں اور مختلف مافیاز کی جانب سے بھی صحافیوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت میڈیا انڈسٹری شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں میڈیا ورکر بے روزگار ہوچکے ہیں۔ جبکہ غیر اعلانیہ پابندیوں کے باعث انہیں اپنے کام میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان میں جہاں دیگر اداروں میں کرپشن کے باعث ادارے کمزور ہوئے ہیں، وہیں صحافتی یونینوں کے اندر مالی مفادات کے باعث صحافتی کاز کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے علاوہ پاکستان میں صحافیوں کی آزادی صحافت کی جدوجہد کی تاریخ باوقار رہی ہے، اور صحافیوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کیئے ہیں۔

متعلقہ خبریں