جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

دنیا نے جو مدد کی وہ بہت کم ہے، مزید امداد کی ضرورت ہے : وزیر اعظم

دنیا نے جو

اسلام آباد : شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے آنے والی آفت کا ہم اکیلے مقابلہ نہیں کرسکتے، دنیا نے جو مدد کی وہ ہماری ضرورت سے بہت کم ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بلومبرگ کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب سے پاکستان میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا، 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ تین کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ 30 لاکھ بچوں کے وبائی امراض سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے دورے میں پاکستان میں ہونے والی تباہی دیکھی۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں ایسی تباہی نہیں دیکھی۔ مجھے اس وقت سیلاب متاثرین کے ساتھ ہونا چاہیئے تھا۔ میں یہاں اس لیے ہوں کہ دنیا کو بتا سکوں ہمارے ملک میں کیا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی ضرورت کو اجاگر کیا : وزیر اعظم

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کلاؤڈ برسٹ ہوا۔ موسمیاتی تبدیلی میں ہمارا حصہ نہیں ہے۔ پاکستان کا کاربن گیسز کا اخراج ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ آنے والی آفت کا ہم اکیلے مقابلہ نہیں کرسکتے۔ امریکی صدر کے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے حوالے سے بیان پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا نے جو مدد کی وہ ہماری ضرورت سے بہت کم ہے۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اگلے 2 ماہ میں پاکستان پر قرضوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ لوگوں کو دوبارہ بحال کرنے اور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کیلئے مزید امداد کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں