جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

2028 تک بھی حکومت کہیں نہیں بھیج سکتے، زور لگا لیں اور ہم بھی لگا لیتے ہیں : فواد چوہدری

2028 تک بھی

اسلام آباد : فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جنوری 2021  تو کیا 2028 تک بھی کہیں نہیں بھیج سکتے، آپ بھی زور لگا لیں اور ہم بھی لگا لیتے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو آئین دیا۔ آرٹیکل 53 بھی آئین کا حصہ ہے، جس میں اسپیکر آفس کی تکریم ہے، بد قسمتی سے کچھ لوگ فٹبال کھیلتے کھیلتے ایوان میں آگئے ان کو اسپیکر کی توقیر کا علم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک غیر آئینی نہیں، احتجاج آپ کا حق ہے۔ پی ڈی ایم کے تین جلسہ ہوئے اور تین بیانیہ فوج ، عدلیہ، اردو زبان اور آزاد بلوچستان کے بیانیہ سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں کہا گیا کہ ہم اردو کو قومی زبان نہیں مانتے۔ اگر اچکزئی صاحب کو اردو آتی تو ان کو بات کرنے کا سلیقہ آجاتا۔ اردو ہندی تنازع دو قومی نظریہ کی بنیاد میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن تھک کر مذاکرات کے لیئے آئیگی، تحریک کا مقصد این آر او لینا ہے : فواد چوہدری

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا گلہ نواز شریف سے نہیں، وہ تو پھنسے ہوئے ہیں۔ جب نواز شریف کے بیانیہ پر خواجہ آصف اور ریاض پیرزادہ خاموش رہتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایاز صادق نے اعتماد سے جھوٹ بولا کہ شاہ محمود قریشی کی بھارت سے متعلق ٹانگیں کانپ رہیں تھیں۔ پلوامہ کے بعد ہم نے بندوستان کو گھس کر مارا، جس پر بھارت شرمندہ تھا، آپ پی ٹی آئی پر ضرور کریں مگر ریاست پر نہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم فوجی جوانوں کے ساتھ ہیں لیکن جرنیلوں کیخلاف ہیں۔ یہی بات ہندوستان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں کررہی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پہلوان نہیں، جنوری 2021 تو کیا 2028 تک بھی کہیں نہیں بھیج سکتے۔ نواز شریف کا مسئلہ 8 کیسز ہیں، اگر کیسز ختم ہوجائیں تو فوج بھی ٹھیک، عمران خان بھی بہترین ہوگا۔ اگر آپ مدعا 8 کیسز پر رکھیں گے تو آپ بھی زور لگا لیں اور ہم بھی لگا لیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں