جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

زمین پر قبضہ اور ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کرنے پر عارف علوی کیخلاف درخواست کی سماعت

عارف

کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں خاندانی زمین پر قبضہ اور ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کرنے پر ڈاکٹر عارف علوی کے صدر پاکستان منتخب ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت درخواست گزار کی عدم حاضری پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی۔

سندھ ہائیکورٹ میں خاندانی زمین پر قبضہ اور ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کے معاملے میں ڈاکٹر عارف علوی کے صدر پاکستان منتخب ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی درخواست گزار کی عدم حاضری پر عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

درخواست گزار عظمت ریحان نے دائر درخواست موقف اختیار کیا ہے کہ جس شخص عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی وہ ملک کا سربراہ کیسے رہ سکتا ہے عارف علوی نے 1977 میں دائر سول سوٹ کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کریں: عارف علوی

موجودہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے بھی عارف علوی کے خلاف حکم نامہ جاری کیا تھا ڈاکٹر عارف علوی نے خود علویہ تبلغ ٹرسٹ کا "کوٹرسٹی” ظاہر کیا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہاکس بے پر نمک بینک کے دعوے میں خود کو "ٹرسٹی” ظاہر کیا 1977 سے عدالت میں زیر سماعت کیس میں تین بار عارف علوی نے حلف نامہ میں غلط بیانی کی ہے۔

حکم نامے کے مطابق صدر عارف علوی نے جعلی دستاویزات جمع کراکر ہاکس بے 1810 ایکڑ زمین اپنے کے کیس کا فیصلہ اپنے حق میں کرایا صدر پاکستان عارف علوی کو نااہل کرنے کا حکم دیا جائے۔

متعلقہ خبریں